19 ستمبر 2026 - 12:15
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایران کو دنیا کے لئے ایسا ملک بنا دیا جس کا کوئی متبادل نہیں،  لم ٹین ۔ 1

وہ لوگ جو آیت اللہ خامنہ ای کو غیر جمہوری سمجھتے تھے اور رد کرتے تھے، وہ ایران کی حقیقتوں سے زیادہ اپنے تعصبات کے تابع تھے۔ اسلامی جمہوریہ کے بانی، آیت اللہ خمینی کی طرح آیت اللہ خامنہ ای بھی ایک فقیہ تھے؛ یعنی اعلیٰ ترین سطح کے اسلامی مجتہد۔ اُن کے اختیارات کا سرچشمہ آمرانہ طاقت نہیں تھی، بلکہ ان کی حکمرانی کی جڑیں انسانی تہذیب کی سب سے قدیم اور سخت گیر قانونی روایات میں سے ایک میں پیوست تھیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔

اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ اسی بنیاد پر، بہت سی آزاد بین الاقوامی شخصیات نے اُن کی شہادت کے موقع پر ویڈیو بیانات جاری کئے جن میں سے ایک سنگاپور کے رہائشی وکیل اور "عوامی آواز" پارٹی کے رہنما بیرسٹر لم ٹین (Lim Tean) ہیں جن کا بیان کچھ یوں ہے:

قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدمی سب سے اعلیٰ انسانی فضیلت ہے۔ اگر صرف اسی معیار کو بھی مدنظر رکھا جائے، تو آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں تاریخ کا فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلسل اور بے رحمانہ دباؤ، مفلوج کرنے والی پابندیوں، اپنے نمایاں ترین فوجی منصوبہ سازوں کے ٹارگیٹڈ قتل، اور عدم استحکام پیدا کرنے والی مسلسل مہم کے باوجود ـ جسے دنیا کے طاقتور ترین ممالک نے منظم کیا تھا ـ  36 سال سے زیادہ عرصے تک ایران کی قیادت کی۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایران کو دنیا کے لئے ایسا ملک بنا دیا جس کا کوئی متبادل نہیں،  لم ٹین ۔ 1

جغرافیائی-سیاسی رائے قائم کرنے کے لئے ایمانداری اور جذبات سے دور رہنا چاہئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی رہنمائی میں ایران [تسلیم نہیں ہؤا اور] نہیں ٹوٹا۔ یہ بات بذات خود ایک نمایاں تاریخی حقیقت ہے۔ چھوٹے ممالک، اور حتیٰ کہ کچھ بڑے ممالک بھی، اس سے بہت کم دباؤ کے نتیجے میں بکھر گئے ہیں، اپنی سالمیت [اور آزادی] کھو چکے ہیں؛ اپنے تزویراتی منصوبے ترک کر چکے ہیں اور طاقت کے اس درجہ بندی کے سامنے سر خم کر چکے ہیں جو واشنگٹن دنیا پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے ان میں سے کوئی کام نہیں کیا۔ جما رہا، قائم رہا اور ثابت قدم رہا۔ ایران نے اپنے شہید رہبر کی قیادت میں حالات کے مطابق خود کو ڈھالا، استقامت پر کاربند رہا اور بالآخر فتح یاب ہؤا۔

وہ لوگ جو آیت اللہ خامنہ ای کو غیر جمہوری سمجھتے تھے اور رد کرتے تھے، وہ ایران کی حقیقتوں سے زیادہ اپنے تعصبات کے تابع تھے۔ اسلامی جمہوریہ کے بانی، آیت اللہ خمینی کی طرح آیت اللہ خامنہ ای بھی ایک فقیہ تھے؛ یعنی اعلیٰ ترین سطح کے اسلامی مجتہد۔ اُن کے اختیارات کا سرچشمہ آمرانہ طاقت نہیں تھی، بلکہ ان کی حکمرانی کی جڑیں انسانی تہذیب کی سب سے قدیم اور سخت گیر قانونی روایات میں سے ایک میں پیوست تھیں۔

وہ ایک ایسے ملک کے رہبر تھے جس میں آئین پر مبنی ایک کثیر جہتی اور متعدد پرتوں پر مشتمل نظام کی حکمرانی ہے۔ اس ملک کا صدر براہ راست [عوامی ووٹ سے] منتخب ہوتا ہے؛ اس کی پارلیمنٹ کے ارکان منتخب ہوتے ہیں؛ اس میں ایک گارڈین کونسل ہے؛ اور اس میں ایک ماہرین کی مجلس (مجلس خبرگان) ہے جس کے ارکان عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں جو رہبرِ اعلیٰ کو منتخب یا برطرف کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ آئینی ڈھانچہ بھی خود ایران کے عوام نے 1979ع‍ کے ریفرنڈم میں منظور کر لیا تھا۔ یہ کسی آمرانہ حکومت کے ادارے نہیں ہیں، بلکہ ایک آزاد قوم کے ادارے ہیں جس نے اپنی بنیادی کارروائی کے ذریعے، اپنے حالات کے مطابق، ایک ڈھانچہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار مغربی موقف، کبھی بھی ایک اصولی موقف نہیں رہا ہے، بلکہ یہ مغرب کے عزائم کے حوالے سے ان کی تزویراتی مصلحت اندیشی تھی اور ہے جسے تہذیبی فیصلے کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha